گلبرکہ۔(ایس او نیوز/پریس ریلیز) سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI)کے ریاستی صدر الیاس محمد تمبے نے گلبرگہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی ریاستی حکومت کے اراکین اسمبلی اور لیڈران مسلسل آئین مخالف اور اشتعال انگیز بیانات دیتے آرہے ہیں جبکہ ریاستی حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
بی جے پی رکن اسمبلی بسانا گوڈا پاٹل نے سینئر مجاہد آزادی ایس درائی سوامی کے خلاف توہین آمیز بیانات کا ایس ڈی پی آئی سخت مذمت کرتی ہے۔ریاستی حکومت مذکورہ رکن اسمبلی کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے سلاخوں کے پیچھے دھکیلنے کے بجائے ان کی حفاظت کررہی ہے۔ بی جے پی کے ایک اور رکن اسمبلی رینوکاچاریہ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ وہ اپنے حلقے میں مسلمانوں کی ترقی کیلئے کام نہیں کریں گے کیونکہ مسلمانوں نے انہیں ووٹ نہیں دیا ہے۔
رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ گاندھی جی کی تحریک کی وجہ سے ہندوستان آزاد نہیں ہوا ہے۔سی اے اے کے خلاف احتجاجات پر تبصرہ کرتے ہوئے سی ٹی روی نے کہا کہ اگر اکثریت غصے میں آگئی تو گودھر اجیسی صورتحال پیدا ہوجائے گی۔انہو ں نے یہ بھی کہا کہ دیش دروہیوں کو بریانی نہیں گولی ملے گی۔بی جے پی اراکین اسمبلی کے یہ سارے بیانات تشدد اور نفرت کو اکسا رہے ہیں۔ ان میں زیادہ تر بیانات پر غدار ی کا مقدمہ لگایا جاسکتا ہے۔ سی اے اے مظاہرین پر دہلی میں ہوئے حملے سے قبل بھی بی جے پی کے اراکین اسمبلی اور لیڈران اسی طرح کے اشتعال انگیز بیانات جاری کئے تھے۔ایس ڈی پی آئی ریاستی صدر الیاس محمد تمبے نے مزید کہا کہ شاہین اسکول بیدر میں این پی آر پر تنقید کرنے پراساتذہ اور والدین کے خلاف غداری کا مقدمہ دائر کیا گیا ہے، جس کو ایس ڈی پی آئی سخت مذمت کرتی ہے۔حکومت اور پولیس ان لوگوں کو نشانہ بنارہی ہے جو عوام مخالف اور آئین مخالف اقدامات کے خلاف آواز اٹھارہے ہیں۔این پی آر چور دروازے سے این آر سی نافذ کرنے کا پہلا قدم ہے۔ ریاست میں NPRنافذ کرنے کے کرناٹک حکومت کے اقدام کی ایس ڈی پی آئی سخت مذمت کرتی ہے اور ایس ڈی پی آئی عوام سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ این پی آر کو معلومات نہ دیکر این پی آر کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ پریس کانفرنس میں افسر کوڈلی پیٹ، عبدالرحیم پٹیل، ڈاکٹر رضوان اور علیم الہی موجود رہے۔